کوئٹہ: وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف بلوچستان کے سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں امدادی کاروائیوں کا جائزہ لینگے ایک روزہ دورے پر کوئٹہ پہنچ گئے۔
کوئٹہ پہنچنے پر وزیرِ اعظم کو چیف سیکرٹری بلوچستان عبدالعزیز عقیلی اور چیرمین این ڈی ایم اے لیفٹیننٹ جنرل اختر نواز نے بلوچستان میں حالیہ بارشوں کے نقصانات اور امدادی سرگرمیوں کے حوالے سے تفصیلی بریفینگ دی۔اس موقع پر وزیر اعظم شہباز شریف نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ یہ ہمارا قومی المیہ ہے کہ ماضی میں ڈیموں کی تعمیر پر توجہ نہیں دی گئی ۔ موجودہ چیلنج بہت بڑا ہے مگر ہم متاثرین کی مکمل بحالی تک چین سے نہیں بیٹھیں گے ۔ انہوں نے مزید کہا کہ بحالی اور امداد کیلئے پی ڈی ایم اے اور این ڈی ایم اے صوبائی انتظامیہ اور این ایچ اے کی کوششیں لائق تحسین ہیں ۔وزیر اعظم نے ہدایت کی کہ سیلاب متاثرہ علاقوں میں میڈیکل کیمپس کا جال پھیلایا جائے۔
وزیرِ اعظم نے کہا کہ غیر معمولی بارشوں سے وسیع پیمانے پر نقصان ہوئے ۔ قیمتی انسانی جانوں کے نقصان کےساتھ انفراسٹکرکچر تباہ ہوا ۔ وفاق اور بلوچستان حکومت قومی جذبے سے بحالی اور آبادکاری کیلئے پرعزم ہیں ۔جب تک آخری گھر آباد نہیں ہوتا حکومت چین سے نہیں بیٹھے گی ۔ وزیرِ اعظم نے مقامی اور بین الاقوامی تنطیموں سے بھی سیلاب متاثرین کی مدد کیلئے حکومت کی معاونت کی اپیل کی ۔ چیف سیکرٹری بلوچستان عبدالعزیز عقیلی اور چئیرمین این ڈی ایم اے لیفٹینٹ جنرل اختر نواز نے بریفنگ میں تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ 13 جون کو بارشوں کا پری مون سون سسلسلہ شروع ہوا ۔ تیس سال کی اوسط کے مقابلے بلوچستان میں تقریباً 500 فیصد زیادہ بارش ہوئی۔
بریفنگ میں مزید بتایا گیا کہ اب تک بلوچستان میں اموات کی کل تعداد 136 ہے جبکہ 70 افراد زخمی ہیں ۔ گیارہ سو لوگ معمولی زخمی ہوئے جنہیں فرسٹ ایڈ دی گئیں ۔ 2 لاکھ ایکڑ زرعی اراضی زیر آب آگئی ۔ 20 ہزار 500 لوگوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا ۔موٹروے ایم 8 اور کوئٹہ کراچی قومی شاہراہ بڑی حد تک بحال کردی گئی ہیں ۔ وزیراعظم محمد شہباز شریف کے بلوچستان دورے پر لاہور سے کوئٹہ پہنچنے پر ہوائی اڈے پر وزیراعلیٰ بلوچستان میر عبدالقدوس بزنجو نے استقبال کیا جبکہ صوبائی وزرا اور اعلیٰ حکام بھی انکے ہمراہ موجود تھے ۔ وفاقی وزیراطلاعات مریم اورنگزیب ، مولانا عبدلواسع ، اسرار ترین اور نوابزادہ شاہ زین بگٹی بھی وِزیر اعظم کے ساتھ پہنچے ہیں ۔
وزیر مملکت میر ہاشم نوتیزئی ۔ ایم این اے صلاح الدین ایوبی اور چیرمین این ڈی این اے لیفٹیننٹ جنرل اختر نواز بھی وزیرِ اعظم کے ہمراہ تھے۔ پریس کانفرنس کرتے ہوئے شہباز شریف نے کہا کہ متاثرہ علاقوں میں عملہ موجود ہے، یقیناً وزیر اعلی کی پوری ٹیم، پی ڈٰی ایم اے، چیف سیکریٹری بھرپور دلچسپی لے رہے ہیں، بعض کمزوریاں بھی سامنے آئی ہیں، جس پر ہم فی الفور ایکشن لیں گے، میڈیکل کیمپس میں کوئی ریکارڈ موجود نہیں تھا، سارا عملہ موجود ہے ریکارڈ موجود نہ ہونے پر دکھ ضرور ہوا۔ لوگ دور دراز علاقوں سے آئے ہیں،لیکن کسی کیمپ میں کھانے ملنے کی توثیق نہیں ملی، عوام نے کہا کہ ہمیں کھانا نہیں ملا،کسی آدمی کو بھیج کر ہم کھانا منگواتے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ ایک چھوٹے بچے سے ملا ہوں، اس کی باتیں بیس سال کے نوجوان جیسی تھیں، وہ سب بتا رہا تھا، میں اس کی تعلیم کے بارے میں بھی کہا ہے، ہم فوری ایکشن لیں گے، آج سے کھانا ملنا چاہیے، صبح اور رات کا کھانا دیا جائے، آج ہی ایکشن لیں گے، تمام کمزوریاں ختم کریں گے۔ وزیر اعلی عبدالقدوس بزنجو نے کہا کہ یہاں آکر یہ چیزیں سامنے آئیں، گو کہ ہمیں کہا گیا تھا کہ ایک ماہ کا راشن دیا گیا ہے جو کہ نہیں دیا، چیف سیکریٹری تمام متعلقہ افراد کو معطل کریں اور معاملے کی مکمل انکوائری کی جائے۔
وزیر اطلاعات مریم اورنگزیب نے ٹوئٹ میں بتایا کہ کوئٹہ کے راستے میں وزیراعظم کو این ڈی آیم اے چئیرمین نے ریسکیو ریلیف اور امددای کاروائی پہ بریفنگ دی۔ مریم اورنگزیب نے وزیراعظم کو دی جانے والی بریفنگ کی تصاویر بھی شئیر کی۔
