کوئٹہ: بلوچستان میں مون سون کی بارشوں نے تباہی مچادی۔ حکومت نے ضلع کوئٹہ کو آفت زدہ قرار دے کر ایمرجنسی نافذ کردی۔
کوئٹہ اور صوبے کے دیگر علاقوں میں مون سون کی بارشوں کا سلسلہ جاری ہے ۔ کوئٹہ مِیں بارشوں سے ہونے والی تباہی کے بعد حکومت بلوچستان کی جانب سے ضلع کوئٹہ کو آفت زدہ قرار دے کر اس میں ایمرجنسی نافذ کردی گئی ہے۔
گذشتہ روز کوئٹہ میں مون سون کی بارشوں کے باعث صوبے کے ندی نالے بپھر گئے ہیں۔پی ڈی ایم بلوچستان کی جانب سے کہا گیا ہے کہ چھتیں اور دیواریں گرنے سمیت مختلف حادثات میں 14 افراد جاں بحق ہو گئے اور متعدد زخمی ہیں۔ جاں بحق افراد میں سے 6 کا تعلق کوئٹہ 3 کا تربت جبکہ خضدار اور قلعہ سیف اللہ میں مرنے والوں کی تعداد ایک ایک ہے۔
سریاب مشرقی بائی پاس نواں کلی میں درجنوں مکانات زیر اب آگئے۔چالیس سے زیادہ خاندان بے گھر ہوگئے۔ ان علاقوں میں مال مویشیوں کو بھی نقصان پہنچاتھا۔
بلوچستان کی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کے مطابق بارشوں کے باعث قلعہ سیف اللہ، ژوب، پشین، ہرنائی اضلاع سب سے زیادہ متاثر ہوئے ہیں جبکہ مسلم باغ، قمرالدین اور خشنوب میں سیلابی صورتحال ہے،
خشنوب میں متعدد دیہات میں رات کو سیلابی ریلے داخل ہوئے جبکہ خشنوب میں رابطہ پل سیلابی ریلے میں بہہ جانے سے ریسکیو اہلکاروں کو متاثرین تک پہنچنے میں مشکلات کا سامنا ہے۔
محکمہ موسمیات کے مطابق کوئٹہ سمیت بلوچستان کے دیگر علاقوں میں ایک ہفتے تک مون سون کی بارشوں کا سلسلہ جاری رہے گا پی ڈی ایم کے اعداد وشمار کے مطابق اس سال جون اور جولائی میں ہونے والے بارشوں سے اب تک صوبہ بھر میں 31 افراد جان بحق ہوچکے ہیں.
