لاہور:علاقہ علاقے بتی چوک میں پاکستان تحریک انصاف اور پولیس کے کارکنان میں تصادم ہوا ہے، پی ٹی آئی کی خاتون رہنماء یاسمین راشد کی گاڑی میٹرو اسٹیشن پر پولیس رکاوٹیں توڑ کر نکل گئی جبکہ ووکرز کا پولیس پر پتھراؤ جاری ہے۔
حکومت نے تحریک انصاف کے لانگ مارچ کو روکنے کے لیے راولپنڈی سے اسلام آباد جانے والے تمام راستوں کو کنٹینرز لگا کر سیل کردیا۔ تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے آزادی مارچ سے کو روکنے کے لیے مری روڈ، فیض آباد کو ایکسپریس ہائی وے، آئی جے پی روڈ کو کنٹینرز اور خاردار رکاوٹیں لگا کر مکمل طور پر بند کردیا گیا ہے۔ دارالحکومت سے منسلک راولپنڈی میں میٹرو بس سروس اور پبلک ٹرانسپورٹ، بس اڈے سمیت تعیلمی اداروں کو بند کردیا گیا ہے جبکہ جڑواں شہروں میں آج ہونے والے پرچے بھی ملتوی کر دیے گئے ہیں۔
حکومت نے اسلام آباد کے لیے پولیس، رینجرز اور ایف سی طلب کرلی ہے جبکہ ریڈ زون جانے والے تمام علاقے سیل ہیں، جس کے باعث شہریوں کو شدید پریشانی کا سامنا ہے۔ دوسری جانب پنجاب حکومت نے تحریک انصاف کے رہنماؤں محمود الرشید اور سینیٹر اعجاز چوہدری سمیت مقامی رہنماؤں اور کارکنان کو حراست میں لے لیا گیا ہے۔ یاد رہے کہ چیئرمین تحریک انصاف عمران خان آج پشاور سے لانگ مارچ کے لیے اسلام آباد روانہ ہوں گے جبکہ حکومت نے پختونخوا اور پنجاب کی سرحد کو اٹک خورد کے مقام پر کنٹینرز لگا کر بند رکھا ہے۔
لاہور کے علاقے بتی چوک میں پاکستان تحریک انصاف اور پولیس کے کارکنان میں تصادم ہوا ہے، پی ٹی آئی کارکنان نے مارچ میں شرکت کے لیے نےراستوں سے رکاوٹیں ہٹانا شروع کیں جس پر پولیس نے شیلنگ کردی۔ پی ٹی آئی رہنماء ڈاکٹر یاسمین راشد، شفقت محمود اور حماد اظہر کی قیادت میں کارکنان کنٹینرز پر چڑھ گئے جبکہ شیلنگ کے جواب میں کارکنان نے پولیس پر پتھراؤ کیا جس کے باعث علاقہ میدانِ جنگ بن گیا۔ پولیس کی آنسو گیس شیلنگ کے سینکڑوں شیل برسائے جس کے باعث متعدد کارکنوں کی حالت بگڑ گئی ہے جبکہ 2 درجن سے زائد کارکنان کو حراست میں لے لیا گیا ہے۔
Who is this woman protecting Dr. Sahiba?
— Noor Asad (@PTIislove) May 25, 2022
Brave! #حقیقی_آزادی_مارچ #LongMarch pic.twitter.com/pryIesYCnV
پولیس نے یاسمین راشد کی گاڑی پر پولیس نے دھاوا بول دیا جس کے باعث گاڑی کے شیشے ٹوٹ گئے تاہم پی ٹی آئی کی خاتون رہنماء بتی چوک سے نکلنے میں کامیاب ہوگئیں۔ حکومتِ پنجاب نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے آزادی مارچ کو ناکام بنانے کے لیے لاہور کے اندرونی اور بیرونی راستوں کو کینٹیرز لگا کر بند کردیا ہے، جس کے باعث بابو صابو اور بتی چوک پر گاڑیوں کی طویل قطاریں لگ گئی ہیں۔
راوی پل اور راستوں بندش کے باعث لاہور کے باسی کشتیوں کا استعمال کرکے مقامی منزل کی جانب گامزن ہیں جبکہ ضلعی انتظامیہ نے فوری طور پر کشتیوں کو بھی بند کرنے پر غور شروع کردیا ہے۔ پنجاب میں دریائے راوی پل اور جی ٹی روڈ سمیت تمام اہم شاہراہوں پر درجنوں کینٹینر، مال بردار ٹرک کھڑے کردیئے گئے ہیں، جس کے باعث لاہور تا اسلام آباد فضائی آپریشن بھی متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔
