اسلام آباد ہائی کورٹ نے لاپتا افراد کو بازیاب کرانے کا حکم دیدیا۔ چیف جسٹس اطہر من اللہ نے کہا عدالتی حکم پر عمل درآمد نہ ہوا تو وزیراعظم عدالت میں پیش ہوں ۔
اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ نے لاپتا افراد کی بازیابی کیلئے دائر درخواستوں پر سماعت کی۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ لوگوں کی سکیورٹی تب ہوگی جب آئین پر عمل درآمد ہوگا۔ دوران سماعت ڈپٹی سیکرٹری وزارت داخلہ عدالت میں پیش ہوئے۔ عدالت نے استفسار کیا کہ آپ کے تحت کون کونسی ایجنسیاں ہیں؟ ڈپٹی سیکرٹری نے جواب دیا کہ ایف آئی اے، ایف سی خیبرپختونخوا، بلوچستان وزارت داخلہ کے ماتحت ہیں۔ آئی بی، آئی ایس آئی وزیر اعظم کے ماتحت ہیں۔ کمیٹی اس حوالے سے بہت سیریس ہے، بس تھوڑا سا وقت دیا جائے۔
عدالت نے ریمارکس دیئے کہ عدالت نے ریاست کو ایک موقع دیا ہے، کمیٹی کی میٹنگ کو عدالت ابزرو کرے گی۔ عدالت نے فرحت اللہ بابر اور ممبر اسلام آباد بار کونسل عابد نظیر ایڈووکیٹ کو عدالتی معاون مقرر کردیا۔ عدالت نے لاپتا افراد کو بازیاب کرانے کا حکم دیتے ہوئے ریمارکس دیئے کہ عدالتی حکم پر عمل درآمد نہ ہوا تو وزیر اعظم عدالت میں پیش ہوں۔ کیس کی سماعت نو ستمبر تک کیلئے ملتوی کردی گئی ۔
