منی لانڈرنگ کیس:مونس الہیٰ کی عبوری ضمانت میں توسیع

لاہور کی بینکنگ جرائم عدالت نے منی لانڈرنگ کیس میں مونس الہیٰ، سیکرٹری پنجاب اسمبلی محمد خان بھٹی سمیت دیگر ملزمان وں کی عبوری ضمانت میں تئیس جولائی تک توسیع کردی۔ وکیل نے دلائل دئیے کہ نیب نے بیس سال تک چوہدری خاندان کی سوئی سے لیکر جہاز تک کی تحقیقات کیں مگر کچھ نہیں ملا۔ رجیم چینج کے بعد مونس الہیٰ پر سیاسی بنیاد پر مقدمہ بنایا گیا ہے۔

چوبیس ارب روپے کی منی لانڈرنگ کیس میں مسلم لیگ ق کے رہنما مونس الہی، شریک ملزم سیکرٹری پنجاب اسمبلی محمد خان بھٹی اور واجد بھٹی عبوری ضمانت کیلئے بینکنگ عدالت میں پیش ہوئے۔۔ امجد پرویز ایڈووکیٹ نے دلائل دئیے کہ رحیم یار خان شوگر ملز کو منی لانڈرنگ کیلئے استعمال کرنے کا الزام لگایا گیا مگر ایف آئی اے نے انکوائری میں ملزمان کو شامل تفتیش کیا نہ ہی ملزمان کا موقف سنا۔

وکیل نے دلائل دئیے کہ ایف آئی اے کو اختیار نہیں ہے کہ وہ عدالتی نظرثانی کرسکے۔۔ امجد پرویز نے بتایا کہ نیب نے بیس سال تک چوہدری خاندان کی سوئی سے لیکر جہاز تک کی تحقیقات کیں۔ نیب نے ہائیکورٹ میں بیان دیا کہ بیس سال کی انکوائری میں مونس الہیٰ سمیت چوہدری خاندان کے خلاف کچھ بھی نہیں ملا جبکہ ڈی جی نیب نے ہائیکورٹ میں پیش ہوکر چوہدری خاندان کے خلاف کوئی مواد نہ ملنے پر انکوائری بند کرنے کا بیان دیا تھا۔

امجد پرویز ایڈووکیٹ نے دلائل دئیے کہ مونس الہیٰ کے والد سیاسی جماعت کے سربراہ ہیں، رجیم چینج کے بعد یہ مقدمہ سیاسی بنیاد پر بنایا گیا ہے۔ دوسری جانب ایف آئی اے نے مونس الہیٰ، محمد خان بھٹی سمیت ملزمان کی گرفتاری مانگ لی۔ بینکنگ جرائم عدالت کے جج محمد اسلم گوندل نے چوہدری مونسی الہیٰ سمیت دیگر کی عبوری ضمانتوں میں تئیس جولائی تک توسیع کردی۔

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More