چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان ننکانہ صاحب اور فیصل آباد سے ضمنی الیکشن لڑنے کیلئے اہل قرار۔ لاہور ہائیکورٹ کے اپیلٹ ٹربیونل نے دو مختلف درخواستوں پر فیصلہ سنا دیا۔
جسٹس شاہد وحید پر مشتمل اپیلٹ ٹربیونل نے این اے ایک سو اٹھارہ سے عمران خان کے کاغذات نامزدگی منظور ہونے کے خلاف اپیل پر سماعت کی۔ حلقے سے ن لیگی امیدوار شذرہ منصب کھرل کے وکیل منصور عثمان اعوان نے دلائل دئیے کہ این اے ایک سو اٹھارہ کے لئے عمران خان کا حلف نامہ قانون کے مطابق ہے نہ ہی نامہ اوتھ کمشنر سے تصدیق شدہ جبکہ ایف بی آر کی ریٹرنز میں توشہ خانہ کی قیمتی اشیا کو ڈکلئیر بھی نہیں کیا گیا۔
الیکشن ٹربیونل نے ریمارکس دئیے کہ سپریم کورٹ کہہ چکی ہے کہ حلف نامہ اوتھ کمشنر سے تصدیق شدہ نہ ہونے کی بنیاد پر کاغذات نامزدگی مسترد نہیں ہوسکتے۔ اگر آپ نے کوئی اعتراض ریٹرننگ افسر کے سامنے نہ اٹھایا ہو تو اسے اپیل میں بھی نہیں اٹھا سکتے۔ عدالت نے استفسار کیا کہ کیا اس بنیاد پر کاغذات نامزدگی مسترد کئے جاسکتے ہیں؟ سیکشن سولہ کہتا ہے کہ چار وجوہات کی بنیاد پر کاغذات نامزدگی مسترد ہوسکتے ہیں۔
جسٹس شاہد وحید نے دلائل سننے کے بعد این اے ایک سو اٹھارہ ننکانہ صاحب سے عمران خان کے کاغذات نامزدگی منظوری کے خلاف ن لیگ کی اپیل مسترد کردی۔ این اے ایک سو آٹھ فیصل آباد سے ضمنی انتخاب میں کاغذات نامزدگی مسترد کرنے کا ریٹرننگ افسر کا فیصلہ کالعدم کرتے ہوئے عمران خان کے کاغذات نامزدگی منظور کرلئے۔
