اس مشکل گھڑی میں عوام کے تعاون سے ہم اس آفت سے نجات حاصل کریں گے، میجر جنرل بابر افتخار

پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے ڈائریکٹر جنرل میجر جنرل بابر افتخار نے کہا کہ سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں ریسکیو اور ریلیف کی کارروائیاں جاری ہیں۔ بلوچستان میں ریسکیو اور ریلیف کی کارروائیوں کے دوران ہمارے افسران شہید ہوئے لیکن اس کے باوجود سیلابی صورتحال میں عوام اور متاثرین کو تنہا نہیں چھوڑیں گے۔ عوام کا اعتماد ہی افواج پاکستان کا اثاثہ ہے۔ اس مشکل گھڑی میں بھی عوام کے تعاون سے ہم اس آفت سے نجات حاصل کریں گے۔

نیشنل فلڈ رسپانس اینڈ کوآرڈینیشن سینٹر میں ڈی جی آئی ایس پی آر میجرجنرل بابر افتخار نے پریس کانفرنس میں بتایا کہ آرمی چیف نے خیبر پختونخوا، سندھ اور دیگر متاثرہ علاقوں کا دورہ کیا اور سیلاب متاثرہ علاقوں میں امدادی کارروائیوں کا جائزہ لیا۔ پاکستان آرمی اور نیوی کے ہیلی کاپٹر کے ذریعے کالام میں پھنسے سیاح اور شہریوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا ہے۔ 250 میڈیکل کیمپوں میں 83 ہزار افراد کو علاج کی سہولیات فراہم کی گئیں۔

ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ پاکستان ایئر فورس کی جانب سے خوراک، بنیادی اشیا متاثرین کو فراہم کی گئیں اور پاکستان نیوی نے 10 ہزار سیلاب متاثرین کو ریسکیو کیا۔ پاکستان ایئر فورس کا ایریل رسپانس خاص طور پر قابل ذکر ہے، پاک نیوی کے 19 میڈیکل کیمپس ہیں جس میں متاثرین کا علاج و معالجہ جاری ہے اور کیمپوں میں 50 ہزار سے زائد افراد کو ریلیف دیا گیا۔

میجر جنرل بابر افتخار کا مزید کہنا تھا کہ ملک بھر میں 284 فلڈ ریلیف کلیکشن پوائنٹس قائم کیے گئے ہیں۔ خیبر پختونخوا کے علاوہ دیگر علاقوں کے لیے ہیلپ لائن 1135 پر رابطہ کیا جاسکتا ہے۔

میجر جنرل محمد ظفر اقبال نے بھی سیلابی صورتحال سے آگاہ کرتے ہوئے مخیر حضرات سے اپیل کی کہ وہ ایک ہی جگہ کی بجائے امداد ہر شخص تک پہنچانے کیلئے نیشنل فلڈ رسپانس اینڈ کوآرڈی نیشن سینٹر سے رابطہ کریں اس طرح جہاں امداد کی ضرورت ہو گی انہیں گائیڈ کیا جائے گا۔

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More