مون سون بارشوں نے پاکستان کی تاریخ کی بدترین تباہی مچا دی

مون سون بارشوں نے پاکستان کی تاریخ کی بدترین تباہی مچا دی۔ مون سون بارشوں پہلے صوبہ بلوچستان کو سب سے زیادہ متاثر کیا جب کہ حالیہ بارشوں نے جنوبی پنجاب اور سندھ میں بڑے پیمانے پر تباہی مچائی ہے۔

نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کے مطابق بارش کے باعث سیلاب، لینڈ سلائیڈنگ اور چھتیں گرنے سمیت دیگر واقعات میں اب تک ملک بھر میں 340 بچوں اور 211 خواتین سمیت 1003جاں بحق ہو چکے ہیں۔ سیلاب سے ملک بھر میں 320 دکانیں اور 139 بڑی مارکیٹیں تباہ ہو گئیں، ملک بھر میں بارش اور سیلاب سے ہلاک اور متاثر ہونے والے مویشیوں کی تعداد 15 لاکھ سے زیادہ ہو گئی۔ بارش اور سیلاب کے باعث ملک بھر میں تقریباً 2 کروڑ لوگ بے گھر ہو گئے ہیں، جب کہ 30 لاکھ شدید متاثر ہیں۔

بارش اور سیلاب کے باعث ملکی زراعت کو اب تک تقریباً 750ارب روپے کا نقصان پہنچا ہے جبکہ 30 لاکھ ایکٹر رقبے پر فصلیں تباہ ہو گئیں، این ڈی ایم اے کے مطابق رواں سال کا سیلاب نے 2004 میں ہونے والے نقصانات کو پیچھے چھوڑ دیا ہے۔ 3 لاکھ ایکٹر پر چاول، 6 لاکھ ایکڑ پر کپاس، 3 لاکھ ایکڑ پر گنے، 6 لاکھ ایکڑ پر چنے، مکئی، پھلیاں، کالی مرچ، سرچ چنے، دالوں کی فصلوں کو تباہ کر دیا ہے۔

سیلابی ریلوں نے 3500 کلومیٹر سے زائد سڑکوں اور شاہراہوں کو تباہ یا متاثر کیا۔ 10لاکھ گھر یا تو مکمل تباہ ہو گئے یا جزوی طور پر متاثر ہوئے ہیں۔ 280کے قریب چھوٹے اور بڑے پل زمین بوس ہو گئے یا سیلابی ریلوں میں بہہ گئے، تباہ ہونے والوں پلوں میں 21 ریلوے کے پل بھی شامل ہیں۔

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More