کراچی: گورنر اسٹیٹ بینک ڈاکٹر مرتضیٰ سید نے کہا ہے کہ آئی ایم ایف ہم سے بالکل مطمئن ہے,ہمارا سری لنکا یا دیگر ممالک سے موازنہ نہیں کیا جا سکتا، معیشت پرمنفی تجزیے درست نہیں ۔
ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ آئی ایم ایف سے اسٹاف لیول کا معاہدہ ہو چکا، یہ بہت بڑی بات ہے، اسٹاف لیول کے معاہدے کے بعد بورڈ سے منظوری ہو جاتی ہے۔ دوست ممالک سے فائنانسنگ کی بات ہو رہی ہے، آئی ایم ایف کو پاکستان جیسے ممالک سے معاملات طے کرنے کا تجربہ ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کا بیرونی قرضہ جی ڈی پی کا 40 فیصد ہے، گھانا اور دیگر ممالک میں یہ شرح کہیں زیادہ ہے، پاکستان کا شارٹ ٹرم بیرونی قرضہ جی ڈی پی کا 7 فیصد ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ اگلے 12 مہینے عالمی معیشت کے لیے مشکل ہیں، دنیا بھر میں افراطِ زر میں اضافہ ہو رہا ہے۔ اگلے 12 ماہ میں جن ممالک کے پاس آئی ایم ایف پروگرام ہوگا وہ بچے رہیں گے۔
