وفاقی وزیرِ ریلوے خواجہ سعد رفیق نے کہا ہے کہ ہم نے تحریک عدم اعتماد لاکر کیا برا کیا، اسٹیبلشمنٹ نے اس میں کوئی کردار ادا نہیں کیا۔
احتساب عدلت کے باہر میڈیا سے گفتگو کے دوران سعد رفیق نے سابق وزیرِ اعظم عمران خان کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ عمران خان کے خلاف تحریکِ عدم اعتماد نہیں آتی تو اسے ای وی ایم کے ذریعے دوتہائی اکثریت دلائی جانی تھی، افواجِ پاکستان میں مرضی کی تقرری ہونی تھی، جوڈیشری میں خرابی پیدا ہونی تھی، ملک کی آئینی اور جمہوری بنیادوں پر حملہ ہونا تھا۔
انہوں نے کہا کہ احتساب عدالتوں میں ریٹائرڈ ججوں کا کیا تک تھا، عمران خان کے سہولت کار مل کر 1973ء کے آئین پر حملہ کرتے اور ملک میں ایک ریموٹ کنٹرول کا صدارتی نظام لے کر آتے۔
خواجہ سعد رفیق کا کہنا کہ تصور بھی نہیں کیا تھا کہ آئینی تبدیلی لانے پر سازشیں جاری رہیں گی، سازشوں میں عمران خان اکیلے نہیں ان کے سہولت کار بھی شامل ہوں گے، بار بار کہتے ہیں کہ سہولت کار باز آئیں انہیں ٹھنڈ پڑنا چاہیے آرام سے بیٹھ جائیں۔
